Wednesday, March 8, 2017


The positive character of
Religious Schools
 In UC Birote
آپریشن ردالفساد ۔۔۔۔۔۔ رینجرز کی بکوٹ پولیس کے ہمراہ بیروٹ میں دینی مدارس کی تلاشی ۔۔۔۔ آخر میں کلین چٹ دے دی گئی۔
یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ۔۔۔۔ بیروٹ کے مدارس لوگوں میں تفرقہ بازی نہیں پھیلا رہے اور نہ بے معنی بحثوں میں ہی الجھا رہے ہیں۔
یو سی بیروٹ میں دوسری مسجد اور پہلا مدرسہ ۔۔۔۔ مولانا قاضی میاں نیک محمد علوی ؒ۔۔۔۔۔ نے 1838 میں کھوہاس سینٹرل بیروٹ میں قائم کیا، جس کے ٹرسٹی سردارمحمود خانؒ اور ان کے رفقا تھے۔
بکوٹ شریف کے تاجدار حضرت مولانا میاں قاضی پیر فقیراللہ بکوٹیؒ ۔۔۔۔۔ نے بھی اس مسجد میں 1895-1908 تک امامت و خطابت فرمائی اور اسی مسجد میں سرکل بکوٹ کا پہلا جمعہ بھی پڑھایا
**************************
تحقیق و تحریر: محمد عبیداللہ علوی
**************************

یو سی بیروٹ کی وی سی بیروٹ کلاں میں تقریباً ہر مسجد میں قرآن ناظرہ پڑھایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ مذہبی خاندانوں کے علاقہ سے انخلا اور ان کی نئی نسل کا اپنی کم علمی کے باعث دینی تدریس سے گریز کے اظہار کے بعد بیروٹ کلاں کی کہوٹی وارڈ میں دو مدارس قائم کئے گئے ۔۔۔۔ ایک مدرسہ مقامی عالم دین اور بریلوی مکتب فکر کے قاری آصف قریشی، قادری کی زیر سرپرستی شروع کیا گیا، یہاں پر ہر وقت لگ بھگ سو سے زائد طلبا قرآن حکیم ناظرہ و حفظ کا دورہ کرتے ہیں جن کا قیام طعام اہلیان علاقہ کے علاوہ بیرون علاقہ مخیر حضرات کے ذمہ ہے ۔۔۔۔۔ لیکن اگر یو سی بیروٹ میں عہد جدید میں دینی مدرسہ کی شروعات کے حوالے سے دیکھا جائے ۔۔۔۔۔ باسیاں والے مولانا عثمان عباسی کی زیر سرپرستی ۔۔۔۔ چُوریاں، وی سی کہو غربی میں شروع کیا گیا، اس کیلئے زمین حاجی شبیر عباسی نے ہبہ کی تھی ۔۔۔۔ یہاں پر قرآنی طالبات کو تعلیم دی جاتی تھی اور سالانہ ایک درجن یا اس سے زائد طالبات فارغ التحصیل ہوتی تھیں ۔۔۔۔ مگر ایک ناخوشوار واقعہ کے بعد ۔۔۔۔ مولانا عثمان عباسی ۔۔۔۔ سے حاجی شبیر عباسی نے اس مدرسہ بنات (Girls Religious School) کا انتظام و انصرام واپس لے لیا ۔۔۔۔۔ بیروٹ میں دوسرا مدرسہ سابق چیئرمین یو سی بیروٹ بابو محمد عفان مرحوم اور ان کے برادر کوچک بابو غلام عرفان خان عرف لالو کے خانوادے میں ان کے صاحبزادے چنگیز عباسی مرحوم نے الہدیٰ کے نام سے مدرسۃ البنات شروع کیا تھا جہاں سے تادم تحریر بیروٹ کی بچیاں تعلیمات قرآنی سے استفادہ کر رہی ہیں۔
مولانا آصف قادری کے مدرسہ کے قیام کے بعد اس سے تھوڑا اوپر دیوبندی مکتب فکر کا ایک اور مدرسہ ۔۔۔۔ مولانا زاہد عباسی ۔۔۔۔ کی زیر سرپرستی شروع کیا گیا ۔۔۔۔ یہاں پر بھی قاری آصف کے مدرسہ جیسے دینی طلبا موجود ہیں اور ان دونوں مدارس میں سحر سے نماز عشا تک قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔۔ قاری آصف کے مدرسہ کے بچے ، اگر کوئی بلائے تو قرآن خوانی کیلئے بھیجے جاتے ہیں ۔۔۔۔ مگر قاری زاہد عباسی کے مدرسہ کے طلبا کو اس کام سے منع کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی قاضی محمد سمیع اللہ علوی کے ایصال ثواب کیلئے قاری زاہد عباسی سے رابطہ کیا مگر انہوں نے انکار کر دیا ۔۔۔۔ خدائے عز و جل قاری آصف کو جزائے خیر دے، انہوں نے میرے گھر قرآن خوانی کیلئے اپنے مدرسہ کے دینی طلبا بھیج دیئے ۔۔۔۔۔ جنہوں نے قرآن خوانی، نعت خوانی اور دعا بھی کی۔
بیروٹ کی یو سی باسیاں میں مجاہد کشمیر سردار محمد یعقوب خان کے پوتے فرید عباسی بھی ۔۔۔۔ ایک زنانہ دینی مدرسہ چلا رہے ہیں ۔۔۔۔ ماشا اللہ ان کے مدرسے میں باسیاں اور بیروٹ سمیت بیرون علاقہ سے قرآنی طالبات کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے اہلیان سرکل بکوٹ کی بیٹیاں ۔۔۔۔ ان تینوں مدارس میں فہم القرآن سے بھر پور استفادہ کر رہی ہیں ۔۔۔۔ سب مدارس کے اخراجات پروردگار عالم خود پورے کر رہے ہیں ۔
ایک بات پر مجھے (عبیداللہ علوی کو) ضرور فخر ہے کہ ۔۔۔۔۔ یو سی بیروٹ میں دوسری مسجد اور پہلا دینی مدرسہ ۔۔۔۔ راقم الحروف کے جد امجد ۔۔۔۔ مولانا قاضی میاں نیک محمد علوی ؒ۔۔۔۔۔ نے 1838 میں کھوہاس سینٹرل بیروٹ میں قائم کیا، اس مدرسہ کے سرپرست اور ٹرسٹی کاملال ڈھونڈ عباسی قبیلہ کے  اس وقت کے سردار محمود خان عرف بھاگو خان اور ان کے رفقا تھے، مولانا قاضی میاں نیک محمد علوی ؒ اسی مسجد اور مدرسہ کی بائیں جانب جبکہ سردار محمود خان عرف بھاگو خان اس مسجد کے نیچے کولالیاں جانے والے راستہ کے ساتھ ابدی نیند سو رہے ہیں ۔۔۔۔۔ اس مسجد اور مدرسہ کی خدمت راقم الحروف کی سات پشتوں نے کی ہے ۔۔۔۔۔ اس کے ہمارے خاندان سے آخری امام، خطیب، شاعر اور استاد ۔۔۔۔ مولانا قاضی شاہد اسلام علوی عرف پاکستان مرحوم تھے، ان سے پہلے یو سی بیروٹ کے پہلے عربی، فارسی اور اردو شاعر، ٹیچر اور عالم دین ۔۔۔۔۔ مولانا یعقوب علوی بیروٹوی تھے ۔۔۔۔ اس مسجد کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ ۔۔۔۔ بکوٹ شریف کے تاجدار حضرت مولانا میاں پیر فقیراللہ بکوٹیؒ ۔۔۔۔۔ نے بھی یہاں پر 1895-1908تک امامت و خطابت فرمائی اور یہاں پر ایک چشمہ بھی تعمیر کرایا ۔۔۔۔۔ اسی مسجد میں انہوں نے سرکل بکوٹ کا پہلا جمعہ بھی پڑھایا ۔۔۔۔۔ اب اس مسجد میں ہمارے خاندان کا کوئی امام یا خطیب کیوں نہیں ۔۔۔۔؟ اس لئے کہ ۔۔۔۔ آج نہ کوئی مولانا قاضی میاں نیک محمد علوی ہے اور نہ ہی ۔۔۔۔۔ سردار محمود خان، سردار عاقی خان اور ان جیسے ٹرسٹی ہی موجود ہیں ۔۔۔۔ یعنی 
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں​
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
رینجرز کی بکوٹ پولیس کے ہمراہ آپریشن ردالفساد کے سلسلے میں آپریشن کے دوران 2 مارچ 2017 کو بیروٹ میں ان مدارس کی تلاشی لی، یہاں پر موجود کتب کا مطالعہ  کیا گیا اور ماحول کا مشاہدہ کر کے آخر میں کلیئرنس دے دی گئی ۔۔۔۔ جو اس بات کی غماز ہے کہ ۔۔۔۔ ملک بھر کی طرح آپریشن ردالفساد ۔۔۔۔۔۔ کے ذریعے یہاں کے مدارس پر بھی حکومت کی نظر ہے ۔۔۔۔ اس سے پہلے بیروٹ کے محلہ کیتھر کے پانچ افراد مبینہ قابل اعتراض سرگرمیوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادروں کے زیر تفتیش ہیں ۔۔۔۔ رینجرز کے چھاپے اور کلیئرنس کے بعد یہ بات قابل اطمینان ہے کہ ۔۔۔۔۔ بیروٹ کے مدارس فرقہ واریت کے بجائے سچے اور آخری دین مبین کی تعلیم و تدریس اور تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہیں ۔۔۔۔ علیحدہ علیحدہ مسلک ہونے کے باوجود یہاں ۔۔۔۔ میں مسلمان، تو کافر ۔۔۔۔ کی صدا کوئی نہیں لگا رہا، سب اپنا نہ چھوڑو، دوسرے کو نہ چھیڑو، کے اصول پر کاربند ہیں ۔۔۔۔ بیروٹ کے ان مدارس کا ماضی میں ایک تنازعہ ضرور کھڑا ہوا تھا کہ ۔۔۔۔ دونوں مدارس نے مقابلے میں آدھی رات سے صبح تک لائوڈ سپیکر پر ۔۔۔۔ ضعیفوں، بیماروں، جنتالی مائوں(شیر خوار بچوں کی مائوں)، طلبا و طالبات کے علاوہ ۔۔۔۔ دن بھر محنت مزدوری کرنے والے ہر شخص کا سکون غارت کر دیا تھا ۔۔۔۔ اس پر بکوٹ پولیس کو ایکشن لینا پڑا اور اب یہ سپیکر صرف اذان، جمعہ کے خطبے اور ماتمی اعلانات تک محدود ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔ اب رینجرز اور پولیس کی کلیئرنس کے بعد ۔۔۔۔ امید کی جانی چائیے کہ ۔۔۔۔۔ بیروٹ کے یہ مدارس فرقہ واریت، خانوں میں بانٹنے اور نیلی پیلی پگڑیوں کے ذریعے ایک عام اور سیدھے سادے مسلمان کو ۔۔۔۔ نو ر و بشر وغیرہ ۔۔۔۔ کی غیر ضروری اور فقہی اور معتزلہ کی عالمانہ بحثوں میں نہیں الجھائیں گے ۔۔۔۔ والد  مرحوم و مغفور (مولانا میاں قاضی محمد عبداللہ علویؒ) دیوبند کے جید عالم دین ہونے کے باوجود ان نکمی بحثوں سے بہت ہی الرجک تھے اور کہا کرتے تھے کہ
 من برائے وصل کردن آمدی
نہ برائے . فصل کردن آمدی
یعنی ۔۔۔۔ مجھے مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد کیلئے، نہ کہ لوگوں کو لڑانے کیلئے بھیجا گیا ہے۔
 روزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد ۔۔۔۔۔ 3 مارچ 2017