Sunday, January 8, 2017

Educational activities in Circle Bakote
In the year of 2016


************************

 یہ سال سرکل بکوٹ کے تعلیمی اداروں کی نئی بلڈنگز کی تعمیر کے حوالے سے بالکل ہی بانجھ رہا
کھنڈرات میں بدلنے والی سکول بلڈنگز کے باوجود ۔۔۔۔ بھی سرکل بکوٹ نے 35 پی ایچ ڈیز اور ان گنت ایم فلز پیدا کئے
یو سی بکوٹ سے تعلیمی اداروں کی تعمیر نو کے عملی کام میں سردار عثمان عباسی، سردار ایاز عباسی اور سردار شجاع طارق عباسی نے ڈگری کالج کیلئے اپنی قیمتی چالیس کنال ارضی کے عطیہ کا اعلان کیا
یو سی بیروٹ کی مہر شباب سندس نے ایم ایس میتھ میں گولڈ میڈل ، عفیفہ عتیق عباسی تقریری مقابلوں میں شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ، ماہ امم علوی نے کوئز مقابلوں میں اردو یونیورسٹی اسلام آباد کو پہلی پوزیشن دلوائی، بیروٹ خورد کی آٹھویں جماعت کی ہونہار طالبہ ۔۔۔ مقدس سدھیر عباسی ۔۔۔۔ نے ضلعی سطح کا ایک تعلیمی اعزاز اپنے نام کیا
تحریک بحالی سکول بلڈنگ بیروٹ کا قیام، روح رواں ممبر ضلع کونسل خالد عباسی ہیں، جنوری کی آخری تاریخ سے پہلے اس معاملے کو مکمل نمٹانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ استقامت دے۔

تحقیق و تحریر:محمد عبیداللہ علوی

زندہ دلان یو سی بکوٹ کا مستقبل ۔۔۔۔ اپنے سکول کی نئی عمارت میں، جو اسی سال تعمیر ہوئی
*************************
2016 اپنی تمام اچھی بُری یادوں کے ساتھ بیت گیا ۔۔۔۔ یہ سال بھی سرکل بکوٹ کے تعلیمی اداروں کی نئی بلڈنگز کی تعمیر کے حوالے سے بالکل بانجھ ہی رہا اور اپنے پیچھے کوئی مستقل نقوش نہیں چھوڑے ۔۔۔۔۔ مجوزہ تحصیل سرکل بکوٹ بھر کے کھنڈر نما سکول بلڈنگز عوامی نمائندوں کی بے حسی، کے پی حکومت کے لولی پاپ اور علاقے کے غریب مگر ذہین اور قابل طلبا و طالبات کی بے بسی پر ماتم کرتے ہوئے یہ 365 دن بھی ماضی کا حصہ بن گئے ہیں ۔۔۔۔ پھر بھی سرکل بکوٹ کے ہونہار، ذہین اور قابل طلبا و طالبات نے ان تعلیمی اداروں کے کھنڈرات میں ۔۔۔۔ درس و تدریس کا مرحلہ طے کرتے ہوئے ۔۔۔۔ شاندار نتائج دیئے ہیں ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ ان طلبا و طالبات کو بھی شاباش دینا ہم سب پر فرض عین ہے ۔۔۔۔ جنہوں نے ۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کے بے درودیوار، ٹیچرلیس اور لیبارٹری لیس ان اداروں میں تعلیم حاصل کر کے نہ صرف نئی تعلیمی تاریخ لکھی بلکہ ۔۔۔ آنے والے طلبا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ۔۔۔۔ جذبہ صادق ہو تو ۔۔۔ ننگی زمین پر سورج کی براہ راست تپتی دھوپ اور خون منجمد کرنے والی برستی برفباری میں بھی ۔۔۔۔ حصول تعلیم کی منزل کھوٹی نہیں کی جا سکتی ۔۔۔۔ ان گیارہ برسوں کے دوران کھنڈرات میں بدلنے والی سکول بلڈنگز کے باوجود ۔۔۔۔
سیکنڈری سکول برائے طالبات  بیروٹ
 

اس سرکل بکوٹ نے 35 پی ایچ ڈیز اور ان گنت ایم فلز ہی نہیں پیدا کئے ۔۔۔ بلکہ ۔۔۔۔ بیروٹ کے طلبا و طالبات نے گولڈ میڈلز بھی حاصل کئے ہیں ۔۔۔۔؟ سرکل بکوٹ کی یو سی بیروٹ کے ہائر سیکنڈری سکول برائے طالبات میں تعلیمی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ یہ ہوا ہے کہ تین پشتوں سے ٹیچر پیشہ سے وابستہ پرنسپل فرخ نشتر ریٹائر ہو گئی ہیں اور انہوں نے اپنے اس منصب کا چارج ۔۔۔۔۔ صوبائی پبلک سروس کمیشن سے کوالیفائیڈ اپنی ہی بیٹی کو سونپا ہے، یہ سرکل بکوٹ کی پہلی ایم فل فیمیل پرنسپل ہیں، دریں اثنا بکوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈی ای او امجد ارباب عباسی ایبٹ آباد سے ہری پور ٹرانسفر ہو گئے ہیں جبکہ ٹیچر سجاد عباسی کو بیروٹ میں سینٹر انچارج مقرر کیا گیا ہے ۔۔۔۔ گزشتہ سال این ٹی ایس ٹیسٹ میں اول پوزیشن میں سمبلانیاں سکول کے ٹیچر عبدالستار عباسی کی صاحبزادی اور بڑے بیٹے کو مقامی سکولوں میں ٹیچر تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ بیرون علاقہ سے آنے والے ٹیچرز اپنے گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وسول کر رہے ہیں۔
سال 2016 میں یو سی بکوٹ نے تعلیمی اداروں کی تعمیر نو کے عملی کام میں میدان مار لیا اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت بھی دیدیا، بکوٹ کے خانوادہ آزاد خان کے صاحبزادگان سردار عثمان عباسی، سردار ایاز عباسی اور سردار شجاع طارق عباسی نے ڈگری کالج برائے طالبات کیلئے اپنی قیمتی 40 کنال اراضی کے عطیہ کا اعلان کیا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے کہا ۔۔۔۔ لو جی، ہم نے اپنا حصہ ادا کر دیا ۔۔۔۔ اب اس پر بلڈنگ بنانا تمہارا کام ہے ۔۔۔۔ اعلان کے دوسرے روز ہی ۔۔۔۔ بقول بیروٹ سے رکن ضلع کونسل خالد عباسی ۔۔۔۔ بیروٹ کے ڈگری کالج کا فنڈ بکوٹ منتقل کر کے ۔۔۔ بکوٹ کے اس ڈگری کالج کی بلڈنگز کا خواب بھی شرمندہ تعبیر کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔؟
 وی سی کہو غربی کا ایک سکول
یو سی بیروٹ کے کھنڈرات سکول بلڈنگز کی تعمیر میں تو کوئی اضافہ ہوا نہ ہی کسی بھی قسم کی تعمیر نو ہی ہو سکی، سابق وزیر اعلیٰ اور گورنر کے پی کے سردار مہتاب احمد خان کی والدہ مرحومہ کی اس یونین کونسل کی 4 ہونہار طالبات نے ملکی سطح پر اپنی قابلیت اور اہلیت کے نقوش ضرور چھوڑے ہیں، وی سی کہو شرقی کی طالبہ ۔۔۔۔ مہر شباب سندس ۔۔۔ نے رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس میتھ میں گولڈ میڈل حاصل کیا، اسی وی سی کی ایک اور طالبہ عفیفہ عتیق عباسی نے کل پاکستان تقریری مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کر کے میڈل اور شیلڈ حاصل کی، اسی وی سی کی ایم فل کی تیسری طالبہ ماہ امم علوی تھی جس نے ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے آل پاکستان کوئز مقابلے میں ۔۔۔ اپنی مادر علمی وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کو پہلی پوزیشن میں فتح یاب کیا، ہوترول، وی سی بیروٹ خورد کی آٹھویں جماعت کی ہونہار طالبہ ۔۔۔ مقدس سدھیر عباسی ۔۔۔۔ نے گزشتہ سال اپنےسکول کے انہدام کے باوجود ضلعی سطح کا ایک تعلیمی اعزاز اپنے نام کیا ہے ۔۔۔ یو سی بیروٹ میں دو مزید پرائیویٹ سکولوں کا اضافہ بھی ہوا ہے جن کی انرولمنٹ ابھی جاری ہے۔
 یو سی مولیا کا ایک تعلیمی ادارہ
بیروٹ میں ہائیر سیکنڈری سکول کی ہمارے اجداد کے چندے سے بنی بلڈنگ کی بحالی کیلئے ایک ۔۔۔۔ تحرک بحالی سکول بلڈنگ ۔۔۔۔ نے جنم لیا ہے، سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر اس کے روح رواں تحریک آزادی پاکستان کے ایک کار کن محمد عباس خان کے فرزند واحد ۔۔۔۔ خالد عباس عباسی ہیں، انہوں نے اس سلسلے میں عوام علاقہ کا ایک اجلاس بلا کر تعلیمی کمیٹیاں تشکیل دیں اور اب ایک سب کمیٹی بنا کر ماہ رواں کی آخری تاریخ سے پہلے اس معاملے کو نمٹانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے جو ہم سب اہلیان بیروٹ کیلئے کافی حوصلہ افزا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ۔۔۔۔ رواں سال ہی اس تاریخی سکول بلڈنگ کو دوبارہ اس کے شایان شان طریقے سے کھڑا کر دیا جائے گا ۔۔۔۔ انشااللہ ۔۔۔۔ اسی سکول کو راجہ مبین اور طاہر امین کی کوششوں سے ٹیوب ویل بھی تعمیر کر کے دیا گیا ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ ایم پی اے سردار فرید خان کے فنڈز سے سکول کی جائیداد میں مزید 2 مرلے شامل کر کے ان کا قبضہ بھی حاصل کیا گیا ہے۔
یہ سال اپنے دسویں ماہ کی آخری تاریخ اور گیارھویں کے تیسرے عشرے میں بیروٹ کے دو نامور اساتذہ کرام ۔۔۔ محمد سمیع اللہ علوی اور محمد یاسر علوی ۔۔۔۔ بزرگ ٹیچر ممتاز شاہ کی اہلیہ اور سب سے چھوٹی ہمشیرہ کو بھی اپنے ساتھ بہشت بریں لے گیا ہے ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان سب مرحومین کی مغفرت فرماوے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین


******************************

ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی اراضی کا معاملہ، 31جنوری کو اپر دیول کوہالہ روڈ بند کرنے کی  دھمکی


یو سی بیروٹ کی تعلیمی کمیٹیوں کا پہلا ہنگامی اجلاس،  فائنل مذاکرات کیلئے ایک اور سب کمیٹی  بھی تشکیل

کمیٹی میں ندیم عباسی، قاضی سجاول خان اکسیر عباسی کے علاوہ سعید عباسی اور عبدالمنان عباسی کو بھی شامل کیا گیا ہے
کمیٹی نےکام شروع کردیا،رپورٹ وہ 9 جنوری کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی، خصوصی رپورٹ
بیروٹ (عبیداللہ علوی سے)والدین ٹیچر کونسل ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کے چیئرمین شبیر عباسی نے سکول اراضی معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں 31جنوری کو اپر دیول کوہالہ روڈ بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے اور کہا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ہم تادم مرگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے سکول کے سینکڑوں طلبا و طالبات کے ساتھ اس جرنیلی سڑک کو اس وقت تک نہیں کھولنے دیں گے جب تک سکول کی اراضی کا معملہ حل نہیں کیا جاتا شبیر عباسی اور طلبا و طالبات کی اس کھلی دھمکی کے بعد تحریک بحالی سکول بلڈنگ بیروٹ کے رہنما اور یو سی بیروٹ سے رکن ضلع کونسل خالد عباس عباسی نے نئے سال 2017 کے پہلے روز آج اتوار کو ہی یو سی بیروٹ کی چھ ویلیج کونسلوں سے نو تشکیل تعلیمی کمیٹیوں کا پہلا ہنگامی اجلاس وی سی بیروٹ کلاں کے اکھوڑاں آفس میں  طلب کیا جس میں تمام ممبران کے علاوہ جماعت اسلامی کے ضلعی نائب امیر سعید عباسی اور پی ٹی آئی کی طرف سے وی سی باسیاں سے عبدالمنان عباسی شریک ہوئے ہیں، کہو غربی سے تعلیمی کمیٹی کے ممبران کے طور پر بیروٹ خورد سے ممبر تحصیل کونسل قاضی سجاول خان اور چیئرمین وی سی جان محمد عباسی نے خود کو نمائندگی کیلئے پیش کیا، اجلاس میں متفقہ طور پر مالکان اراضی امتیاز عباسی و دیگر سے مکمل اختیارات کے ساتھ فائنل مذاکرات کیلئے ایک سب کمیٹی  بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں  ندیم عباسی،  قاضی سجاول خان اور اکسیر عباسی  کے  علاوہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کو نمائندگی دیتے ہوئے سعید عباسی اور عبدالمنان عباسی کو بھی شامل کیا گیا ہے یہ کمیٹی ہنگامی بنیادوں پر آج سے ہی کام شروع کر رہی ہے جس کی رپورٹ وہ 9 جنوری کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی اگر سب کمیٹی کی کوشش سے مالکان اراضی سے مذاکرات میں کوئی پیشرفت  ہو ئی تو اس کی منظوری دی جائیگی اور اگر سب کمیٹی اپنے ٹاسک میں ناکام رہی توآئندہ کا لائیحہ عمل طے کیا جائیگا اور جبکہ 31جنوری سے قبل تحریک بحالی سکول بلڈنگ  نےاس معاملے کو ہر حال میں نمٹانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
*****************

وی سی بیروٹ کی تعلیمی کمیٹیوں کی سب کمیٹی کا اجلاس ۔۔۔۔۔ رپورٹ پیش کی
--------
ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی بلڈنگ کی اراضی کے دعویداران امتیاز عباسی و دیگر نے اس کے عوض متبادل جگہ کا مطالبہ کر دیا۔
--------
25 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں سب کمیٹی کی جانب سے دعویداران کو جواب دیا جائیگا۔
--------
اراضی خریداری سے متعلق بریگیڈئر مصدق عباسی اور سردار مہتاب خان سے منسوب اعلانات کی کوئی حقیقت نہیں ......ترجمان
--------
اراضی خریداری کا فیصلہ ہوا تو یو سی بیروٹ کے عوام مل کر کنٹری بیوشن کریں گے، اس میں جو کوئی بھی جتنا عطیہ کرنا چاہے اس کی صوابدید پر ہے ۔۔۔ ترجمان
****************
یونین کونسل بیروٹ کی تشکیل کردہ تعلیمی کمیٹیوں کی سب کمیٹی کا ایک اجلاس وی سی بیروٹ کے اکھوڑاں آفس میں ہوا جس کی صدارت ممبر ضلع کونسل خالد عباس عباسی نے کی، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد سب کمیٹی نے رپورٹ پیش کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی بلڈنگ کی اراضی کے دعویداران امتیاز عباسی و دیگر نے اس اراضی کے عوض متبادل جگہ کا مطالبہ کیا ہے تاہم اجلاس نے کمیٹی کو بتایا کہ ۔۔۔۔ دعویداران کا پیغام یو سی بیروٹ کے عوام تک پہنچ گیا ہے جس پر مزید غور و خوض کیا جائیگا اور 25 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں سب کمیٹی کی جانب سے دعویداران کو جواب دیا جائیگا، اس سلسلے میں متبادل اراضی کے علاوہ دونوں فریق اراضی کے معاوضے کے آپشن پر بھی غور کریں گے ۔۔۔۔۔۔ کمیٹی کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ۔۔۔۔ اگر فیصلہ رقم کی ادائیگی کا ہوا تو یہ رقم کہاں سے آئیگی اور اس کی ادائیگی کون کریگا تو ان کا کہنا تھا کہ ۔۔۔۔ یہ پوری یو سی کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ رقم جمع کر کے اراضی دعویداروں کے حوالے کرے ۔۔۔۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ۔۔۔۔ اس سے پہلے تو بریگیڈئیر مصدق عباسی کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ اراضی کی قیمت کوئی بھی لگے ۔۔۔۔ وہ اس کی ادائیگی کرینگے ۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ ماضی میں سردار مہتاب خان کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ۔۔۔۔ ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کیلئے اراضی کی قیمت میں وہ بھی حصہ ڈالیں گے ۔۔۔۔ اس پر ترجمان نے کہا کہ ۔۔۔۔۔ اس طرح کی باتیں نہایت غیر ذمہ داری سے اڑائی جاتی ہیں ۔۔۔۔ تاہم ۔۔۔۔ یو سی بیروٹ کی چھ ویلیج کونسلوں کی تعلیمی کمیٹیوں نے جو بھی متفقہ فیصلہ کیا تو اس کی روشنی میں ان کے تجویز کردہ آپشن پر عملدرآمد کیا جائیگا ۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں کے وسائل کم تھے پھر بھی انہوں نے یہ سکول بلڈنگ عدم سے وجود میں لائے تھے اور اس درسگاہ سے لائق ترین، بیروٹ کا نام ہر شعبہ زندگی میں روشن کرنے والے نامور لوگ پیدا ہوئے اور وہ اپنے اپنے شعبے میں ملک و قوم کا نام آج بھی روشن کر رہے ہیں ۔۔۔۔ انشااللہ ہم اہلیان بیروٹ بھی اس بلڈنگ کی شایان شان تعمیر کیلئے ہر قسم کی مالی قربانی کی ایک اور تاریخ لکھیں گے۔۔۔۔ اجلاس میں سکول بلڈنگ کی تعمیر نو کیلئے کی جانیوالی کوششوں پر ممبر ضلع کونسل خالد عباس عباسی کو خراج تحسین پیش کیا گیا...  ۔ 

Tuesday, November 29, 2016

The positive character of
The Religious Schools
 In UC Birote

********************************
آپریشن ردالفساد ۔۔۔۔۔۔ رینجرز کی بکوٹ پولیس کے ہمراہ بیروٹ میں دینی مدارس کی تلاشی ۔۔۔۔ 
آخر میں کلین چٹ دے دی گئی۔
یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ۔۔۔۔ بیروٹ کے مدارس لوگوں میں تفرقہ بازی نہیں پھیلا رہے اور نہ بے معنی بحثوں میں ہی الجھا رہے ہیں۔
یو سی بیروٹ میں دوسری مسجد اور پہلا مدرسہ ۔۔۔۔ مولانا قاضی میاں نیک محمد علوی ؒ۔۔۔۔۔ نے 1838 میں کھوہاس سینٹرل بیروٹ میں قائم کیا، جس کے ٹرسٹی سردارمحمود خانؒ اور ان کے رفقا تھے۔
بکوٹ شریف کے تاجدار حضرت مولانا میاں قاضی پیر فقیراللہ بکوٹیؒ ۔۔۔۔۔ نے بھی اس مسجد میں 1895-1908 تک امامت و خطابت فرمائی اور اسی مسجد میں سرکل بکوٹ کا پہلا جمعہ بھی پڑھایا

*******************
 تحقیق و تحریر: محمد عبیداللہ علوی
*******************

 
The New
TESTAMENT
of
Union Council Birote
**************
بیروٹ: ہائر سیکنڈری سکول کے طلبا ٹائر جلا کر سکول سے محرومی پر احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ بشکریہ روزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد، 3 فروری 2017
**************


وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ۔۔۔۔ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
بیروٹ سکول کی بحالی، خالد عباس عباسی نے 4دسمبر کو اہلیان یو سی کا اجلاس بلا لیا
اس سکول کی عمارت کی تعمیر میں بزرگوں کی محنت اور ہماری مائوں بہنوں کے گہنوں کے عطیات بھی شامل ہیں
 سردیوں کی ایک میٹنگ میں طے پایا  تھاکہ خیبر سے کراچی تک چندہ کر کے اپنا سکول قائم کریں گے
مالکان نے سکول کی اراضی باقاعدہ محکمہ کو فروخت کی تھی، قبضہ کے کاغذات یو سی بکوٹ کے چیئر مین سردار محمد عرفان  خان کے حوالے کئے گئے تھے
اسی سال ریٹائر ہونے والے فور سٹار جرنیل مقصود عباسی اور امریکی خلائی ادارے ناساکے ڈائریکٹر نثار عباسی بھی بیروٹ کی اسی مادر علمی کےپروردہ ہیں
اجلاس میں  یو سی کے تمام سٹیک ہولڈرز کی شرکت ضروری ہے، اس میں یہ نہ دیکھا جائے کہ  کون کس جماعت یا گروپ سے وابستہ ہے
***************************
تحریر: عبیداللہ علوی
*************************** 
اوسیا اور بکوٹ جانے والے پرانے طلبا ہمیں اپنی تعلیم کے دوران ان دونوں مقامات کی جو سٹوریاں سناتے ہیں ، انہیں سن کر انکھوں سے اشک رواں ہو جاتے ہیں، ایسے میں بیروٹ کے تعلیمی متاثرین نے 1962  کی سردیوں کی اداس شاموں میں ایک میٹنگ کی جس میں طے پایا کہ ۔۔۔۔ خیبر سے کراچی تک چندہ کیا جائے گا اور ہم اپنا سکول قائم کریں گے ۔۔۔۔ جہاں ہم اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کر سکیں، سکول جاتے ہوئے کوئی ہماری راہ نہ روکے، پتھر نہ مارے یا ہمیں بیگار میں نہ پکڑے ۔۔۔۔ ہم سکول کیلئے حکومت کے پاس بھی جائیں گے ۔۔۔۔ علاقے کے مخیر حضرات سے بھی سکول کے لئے پتھر ، مٹی اور دیگر سامان کیلئے درخواست کریں گے ۔۔۔۔ علاقے کے بڑوں نے نوجوانوں کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی  اور یوں سکول کی تعمیر کے خواب کو عملی شکل دینے کیلئے بیروٹ کے ہر نوجوان، خواتین، ڈرائیوروں سمیت تمام پروفیشنلز اور بزرگوں نے اپنے کام سنبھال لئے ۔۔۔۔ صرف دوسال کے عرصہ میں کم و بیش 12 لاکھ روپے جمع کر لئے گئے، بیروٹ کی درد دل رکھنے والی ہماری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنے گہنے اتار کر سکول کی تعمیر کیلئے دے دئیے ۔۔۔۔ روڈ کے ہمارے شہزادوں نے ملک بھر میں پھیلے ہوئے اہلیان کوہسار اور غیروں سے رابطے کئے اور جہاں سے امید تھی وہاں پہنچے اور اس وقت تک نہ اٹھے جب تک انہیں ۔۔۔۔ اپنی نسلوں کو زیور تعلیم سے اراستہ کرنے کیلئے ۔۔۔۔ حسب توفیق کرنسی مل نہیں گئی ۔۔۔۔ اہلیان کہو شرقی بالخصوص خانال برادری نے اس عظیم مقصد کیلئے اراضی کا عطیہ دیدیا، بیروٹ کی تمام بڑی چھوٹی برادریوں نے اپنے اپنے حصے کا کام سنبھالا، ایک برادری نے ۔۔۔۔ فی سبیل اللہ ۔۔۔۔ پتھر عطیہ کئے، دوسری نے ٹرک نمبر   308سےان کی سپلائی ممکن بنائی، ایک برادری نے اس سکول کی جستی چادریں ڈونیٹ کر دیں، کھڑکیاں، دروازے اور کینچیاں بھی اپنے نونہالوں کی اس تعلیمی درسگاہ کیلئے بیروٹ کی مستری برادری نے بلا معاوضہ بنائیں، دیواریں کھڑی کرنے کا مرحلہ آیا تو ۔۔۔۔ مستری برادری نے یہاں بھی اپنا ایثار دکھایا، دو دن اس سکول کی دیواروں کیلئے عطیہ کئے ۔۔۔۔ جمع شدہ رقم کو سیمنٹ، لکڑی سمیت دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا ۔۔۔۔ بیروٹ کے سکول کی یہ بلڈنگ صرف تین ماہ میں کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔ بیروٹ کے ممتاز سماجی کارکن عطا الرحمان عباسی کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ انہوں نے وہ دستاویزات جن پر مالکان اراضی نےسکول کی زمین کی رقم  وصول کی تھی محکمہ مال میں سابق ناظم بیروٹ طاہر فراز عباسی ایڈووکیٹ  کے ساتھ خود دیکھی تھی، سابق ناظم آفاق عباسی بھی کہتے ہیں کہ مالکان نے سکول کی اراضی باقاعدہ محکمہ کو فروخت کی تھی جبکہ سکول کے قبضہ کے کاغزات کو اس وقت کی متحدہ یو سی بیروٹ، بکوٹ کے چیئر مین سردار محمد عرفان  خان کے حوالے کیا گیا تھا، بعد میں یہ قبضہ کے کاغذات آفاق عباسی کی نظامت تک آتے آتے ۔۔۔ گمشدہ ۔۔۔۔ ہو گئے۔
بیروٹ کی اس مادر علمی کی تعمیر اور اس میں کلاسوں کے اجرا سے ایک نئی علمی تاریخ لکھی گئی، اسی سال ریٹائر ہونے والے فور سٹار جرنیل مقصود عباسی اسی درسگاہ کے قابل فخر سپوت ہیں، امریکی خلائی ادارے ناساکا ڈائریکٹر نثار عباسی بھی اسے کے ڈیسکوں پر پڑھا ہے، آج بیروٹ کے 31 پی ایچ ڈیز میں سے لگ بھگ 10 کا تعلق بھی اسی ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی زلزلہ سے کرچی کرچی عمارت سے ہے، راقم الحروف بھی اسی کے ڈیسکوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکا ہے اور  آج اس قابل ہوا ہے کہ آج آپ سے مخاطب ہے۔
زندہ سماج کے زندہ لوگ اپنے دینی و تعلیمی اداروں کو ۔۔۔۔ اپنے پرکھوں کی علامت ۔۔۔۔ سمجھ کر انہیں محفوظ کرتے ہیں، آج ہماری تاریخ ان درسگاہوں کے ایک ایک پتھر پر کندہ ہے، اہلیان بیروٹ کا ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ۔۔۔۔ اس سکول کو اجاڑنے میں اس نام نہاد مقامی قیادت کا بھی بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے کھمبیوں کی طرح اگنے والی بیروٹ کی تعلیمی دکانوں کو پروموٹ کرنے کیلئے ہمارے پرکھوں کی اس عظیم نشانی کو پامال کیا، اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو پھر ہم کیا سوچ رہے ہیں، کیا اب بھی ہم اپنے سٹیٹس کیلئے اس درسگاہ کو فراموش کر دیں گے۔۔۔۔؟
یو سی بیروٹ سے رکن ضلع کونسل خالد عباس عباسی اگرچہ بیروٹ کیلئے خطیر فنڈز تو نہیں لا سکے ہیں تاہم ان کے اس فیصلے کو داد دی جا سکتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔4 دسمبر بروز اتوار ۔۔۔۔ اس ہائیر سیکنڈری سکول بیروٹ کی چندے سے تعمیر ہونے والی اس عمارت کے تحفظ اور بحالی کیلئے اہلیان بیروٹ کا ایک اہم اجلاس اسی سکول میں بلایا ہے جس میں سکول کی والدین اور اساتذہ کی کمیٹی کے ارکان کے علاوہ  سکول کے سابق طلبا کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، کیا یہ اجلاس واقعی کوئی مقاصد حاصل کر سکے گا یا اس میٹنگ کا نتیجہ 40 ماہ قبل ایم پی اے سردار فرید خان کے اسی مقام پر ہونے والے جلسہ کی طرح ۔۔۔۔ نشستند، گفتند، خوردند و برخاستند تک ہی محدود رہے گا ۔۔۔۔ یہاں میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ۔۔۔۔ آپ سکول کی اراضی کو قبضہ گروپ سے آزاد کروانے کا بندوبست کریں ۔۔۔۔ بیروٹ میں ایسے ہمدرد اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے سلسلے میں پریشان افراد موجود ہیں جو ۔۔۔۔ اپنی ذاتی جیب سے سکول کی شاندار بلڈنگ کو دوبارہ کھڑی کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں ۔۔۔۔ ان کے بزرگوں نے یہ عمارت ہمارے حوالے کی تھی مگر تاریک ذہنوں نے ایک سازش کے تحت اسے قانونی اور سیاسی مسائل میں الجھا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ قابل فخر فرزند بیروٹ بریگیڈئیر (ر) مصدق عباسی کئی ایک فورمز پر اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ۔۔۔۔ وہ اس بلڈنگ کو دوبارہ کھڑا کرنے میں دامے، درہمے یا جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے ۔۔۔۔ ان کے اور ان جیسے دیگر اکابرین بیروٹ کا نہ صرف شکریہ ادا کرنا چائیے بلکہ ان کی اس کاوش کا خیر مقدم بھی کیا جانا چاہئیے۔
یہاں پر چند تجاویز بھی ہیں ۔۔۔۔ گر قبول افتد، زہے عز و شرف۔
1 ۔۔۔۔  رکن ضلع کونسل خالد عباس عباسی کے طلب کردہ اس اجلاس میں محدود اڑان کے بجائے یو سی بیروٹ کے تمام سیاسی، سماجی اور دینی سٹیک ہولڈرز کی شرکت بھی ضروری ہے، کیونکہ جب اس سکول کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا ۔۔۔۔ اس وقت کوئی بھی ایوب خان، باچا خان یا کسی اور کا نہیں تھا ۔۔۔۔ سب کے سب بیروٹوی تھے ۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے ان تمام بزرگوں کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرماوے۔
2۔۔۔۔ اس وقت کرنے کا سب سے اہم کام سکول کی اراضی واگزار کرانا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ۔۔۔۔ مالکان اراضی کی بھی اسی طرح ڈیمانڈ پوری کر دی جائے جیسے نصف صدی قبل ان کے بزرگوں کی پوری کی گئی تھی خواہ اس کیلئے ہمیں پھر ایک بار ملک بھر سے چندہ کیوں نہ کرنا پڑے۔
3 ۔۔۔۔ صرف میٹنگیں کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، سکول کے پتھر گارے کے تحفظ اور اس کی مکمل بحالی کیلئے ۔۔۔۔ ان جہاندیدہ، تجربہ کار اور اندر اور باہر سے نونہالان علاقہ کے مستقبل کیلئے فکرمند ان افراد کی با اختیار کمیٹی بھی بنائی جانی چاہیئے جو اس کار خیر کیلئے وقت بھی دے سکیں، اس میں بیروٹ کی تمام برادریوں، پروفیشنلز، سماجی جذبہ رکھنے والوں اور تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی گروپوں اور جماعتوں کے درد دل اصحاب کا انتخاب کیا جائے، اس کمیٹی کا مہینہ میں دوبار اجلاس ہو، اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے ،مقامی پریس کو بھی آگاہ رکھا جائے۔
4 ۔۔۔۔ بھلے لوگو، اس وقت اس خطہ میں تحصیل سرکل بکوٹ کے قیام کی کوششیں ہو رہی ہیں، کیا ہم اپنا اور اپنے بزرگوں کی کھوئی ہوئی اس نشان منزل کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے، اپنے دائیں بائیں دیکھنے اورخدائی رسد حاصل کرنے  کی امید تو ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو خود بھی کچھ کر سکیں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہم کس معجزے کے انتظار میں ہیں ۔۔۔۔؟ اٹھیے ۔۔۔۔۔ میری، آپ کی اور ہم سب کی اس مادر علمی کی زلفیں سنوارنے کیلئے گھر سے نکلئے اور 4 دسمبر کا کچھ وقت ہائر سیکنڈری سکول کی اس زلزلہ زدہ اور قبضہ مافیا کے شکنجوں میں جکڑی اپنی مادر علمی کو دیجئے ۔۔۔۔ یہ فرض کفایہ نہیں بلکہ فرض عین ہے۔ ؎
خدا نے آج تک ۔۔۔۔ اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
 روزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد، 29 نومبر 2016